حدیث نمبر: 8910
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبَّاسٍ مَوْلَى عَقِيلَةَ بِنْتِ طَلْقٍ الْغِفَارِيَّةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ ، فَلْيَجْعَلْ لَهُ حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ ، فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ ، فَلْيُسَوِّرْهُ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ ، فَالْعَبُوا بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے دوست کو آگ کا چھلا پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا چھلا پہنا دے البتہ چاندی استعمال کرلیا کرو اور اس کے ذریعے ہی دل بہلا لیا کرو اور جو شخص اپنے دوست کو جہنم کی آگ کا طوق پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا ہار پہنا دے اور جو اسے آگ کے کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کے کنگن پہنا دے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8910
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات