حدیث نمبر: 8901
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غاضرةٍ ، قال : قَيل لِمَرْوَانَ : هَذَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى الْبَابِ ، قَالَ : ائْذَنُوا لَهُ ، قَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَمَنَّى أَنَّهُ خَرَّ مِنَ الثُّرَيَّا وَأَنَّهُ لَمْ يَتَوَلَّ أَوْ يَلِ ، شَكَّ أَبُو بَكْرٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا " . قَالَ : قَالَ : وَسَمِعْتُهُ , يَقُولُ : " إِنَّ هَلَاكَ الْعَرَبِ بِيَدَيْ فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ " ، قَالَ : قَالَ مَرْوَانُ : بِئْسَ وَاللَّهِ الْفِتْيَةُ هَؤُلَاءِ .
مولانا ظفر اقبال

ایک مرتبہ مروان کو بتایا گیا کہ اس کے دروازے پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہیں اس نے کہا کہ انہیں اندر بلاؤ جب وہ اندر آگئے تو مروان نے کہا کہ اے ابوہریرہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان یہ تمنا کرے گا کاش وہ ثریا ستارے کی بلندی سے گر جاتا لیکن کاروبار حکومت میں سے کوئی ذمہ داری اس کے حوالے نہ کی جاتی۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عرب کی ہلاکت قریش کے چند نوجوانوں کے ہاتھوں ہوگی مروان کہنے لگا واللہ وہ تو بدترین نوجوان ہوں گے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، الرجل المبهم هو يزيد بن شريك، لم نقف له على ترجمة