حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ الْأَزْدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ لِثَوْبَانَ : " كَيْفَ أَنْتَ يَا ثَوْبَانُ إِذْ تَدَاعَتْ عَلَيْكُمْ الْأُمَمُ كَتَدَاعِيكُمْ عَلَى قَصْعَةِ الطَّعَامِ يُصِيبُونَ مِنْهُ ؟ ! " قَالَ ثَوْبَانُ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا ؟ قَالَ : " لَا ، بل أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ ، وَلَكِنْ يُلْقَى فِي قُلُوبِكُمْ الْوَهَنُ " ، قَالُوا : وَمَا الْوَهَنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " حُبُّكُمْ الدُّنْيا ، وَكَرَاهِيَتُكُمْ الْقِتَالَ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ثوبان رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ثوبان ! اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب تمہارے خلاف دنیا کی قومیں ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گی جیسے کھانے کی میز پر دعوت دی جاتی ہے ؟ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا اس وقت ہماری تعداد کم ہونے کی بنا پر ایسا ہوگا ؟ فرمایا نہیں بلکہ اس وقت تمہاری تعداد بہت زیادہ ہوگی لیکن تمہارے دلوں میں وہن " ڈال دیا جائے گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہن کیا چیز ہے ؟ فرمایا دنیا سے محبت اور جہاد سے نفرت۔