حدیث نمبر: 866
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ الْمَدَنِيُّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقَبْرِ ، فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيْ الصُّفُوفِ ، فَقَالَ : هُوَ هَذَا ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ ، مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَاهُ بِصَحِيفَتِهِ بَعْدَ صَحِيفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ هَذَا الْمُسَجَّى عَلَيْهِ ثَوْبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا جنازہ منبر اور روضہ مبارکہ کے درمیان لا کر رکھ دیا گیا، اس اثناء میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور صفوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگے: یہ وہی ہیں (یہ جملہ انہوں نے تین مرتبہ کہا)، پھر فرمایا: اللہ کی رحمتوں کا نزول ہو آپ پر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ اعمال کے بعد اس کپڑا اوڑھے ہوئے شخص کے علاوہ اللہ کی پوری مخلوق میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرنا مجھے محبوب ہو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 866
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى معشر نجيح ، وانظر مابعده