حدیث نمبر: 8458
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " تُفْتَحُ الْبِلَادُ وَالْأَمْصَارُ ، فَيَقُولُ الرِّجَالُ لِإِخْوَانِهِمْ : هَلُمُّوا إِلَى الرِّيفِ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مختلف ممالک اور شہر فتح ہونے لگیں گے تو لوگ اپنے بھائیوں سے کہیں گے کہ آؤ سرسبز و شاداب علاقوں میں چل کر رہتے ہیں حالانکہ اگر انہیں معلوم ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا اور جو شخص بھی مدینہ منورہ کی مشقتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی بھی دوں گا اور سفارش بھی کروں گا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8458
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1378