حدیث نمبر: 8399
وَبِإِسْنَادِهِ ، وَبِإِسْنَادِهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلَانِ مِنْ بَلي حي مِنْ قُضَاعَةَ أَسْلَمَا مَعَ رسولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، وَاسْتُشْهِدَ أَحَدُهُمَا ، وَأُخِّرَ الْآخَرُ سَنَةً ، قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ : فَأُرِيتُ الْجَنَّةَ ، فَرَأَيْتُ فِيهَا الْمُؤَخَّرَ مِنْهُمَا أُدْخِلَ قَبْلَ الشَّهِيدِ ، فَعَجِبْتُ لِذَلِكَ ، فَأَصْبَحْتُ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ للنبي اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَيْسَ قَدْ صَامَ بَعْدَهُ رَمَضَانَ وَصَلَّى سِتَّةَ آلَافِ رَكْعَةٍ أَوْ كَذَا وَكَذَا رَكْعَةً صَلَاةَ السَّنَةِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے قبیلہ قضاعہ کے ایک خاندان " بَلِی " کے دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے ان میں سے ایک صاحب تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہید ہوگئے اور دوسرے صاحب ان کے بعد ایک سال مزید زندہ رہے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ اپنی طبعی موت مرنے والا اپنے دوسرے ساتھی سے کچھ عرصہ قبل ہی جنت میں داخل ہوگیا حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اس نے چھ ہزار رکعتیں نہیں پڑھیں اور ماہ رمضان کے روزے نہیں رکھے اور اتنی سنتیں نہیں پڑھیں ؟

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8399
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن