حدیث نمبر: 83
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ : أَنَّ الصُّبَيَّ بْنَ مَعْبَدٍ كَانَ نَصْرَانِيًّا تَغْلِبِيًّا أَعْرَابِيًّا فَأَسْلَمَ ، فَسَأَلَ : أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ فَقِيلَ لَهُ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَأَرَادَ أَنْ يُجَاهِدَ ، فَقِيلَ لَهُ : حَجَجْتَ ؟ فَقَالَ : لَا ، فَقِيلَ : حُجَّ وَاعْتَمِرْ ، ثُمَّ جَاهِدْ ، فَانْطَلَقَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْحَوَائطِ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا ، فَرَآهُ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ ، وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ ، فَقَالَا : لَهُوَ أَضَلُّ مِنْ جَمَلِهِ ، أَوْ : مَا هُوَ بِأَهْدَى مِنْ نَاقَتِهِ ، فَانْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ ، فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهِمَا ، فَقَالَ : " هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ الْحَكَمُ : فَقُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ : حَدَّثَكَ الصُّبَيُّ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابو وائل کہتے ہیں کہ صبی بن معبد ایک دیہاتی قبیلہ بنو تغلب کے عیسائی تھے جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ، انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا ، چنانچہ انہوں نے جہاد کا ارادہ کر لیا ، اسی اثناء میں کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے حج کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ! اس نے کہا : آپ پہلے حج اور عمرہ کر لیں ، پھر جہاد میں شرکت کریں ۔ چنانچہ وہ حج کی نیت سے روانہ ہو گئے اور میقات پر پہنچ کر حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا ، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے کہا یہ شخص اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے ، صبی جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو زید اور سلمان نے جو کہا تھا ، اس کے متعلق ان کی خدمت میں عرض کیا ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ کو اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر رہنمائی نصیب ہو گئی ۔ راوی حدیث کہتے ہیں کہ میں نے ابو وائل سے پوچھا کہ یہ روایت آپ کو خود صبی نے سنائی ہے ؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 83
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح