(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ ، قَالَ : جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالُوا : إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالًا وَخَيْلًا وَرَقِيقًا ، نُحِبُّ أَنْ يَكُونَ لَنَا فِيهَا زَكَاةٌ وَطَهُورٌ ، قَالَ : مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ قَبْلِي فَأَفْعَلَهُ ، وَاسْتَشَارَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِيهِمْ عَلِيٌّ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : " هُوَ حَسَنٌ ، إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةً رَاتِبَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا مِنْ بَعْدِكَ " .حارثہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ شام کے کچھ لوگ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمیں کچھ مال و دولت ، گھوڑے اور غلام ملے ہیں ، ہماری خواہش ہے کہ ہمارے لئے اس میں پاکیزگی اور تزکیہ نفس کا سامان پیدا ہو جائے ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھ سے پہلے میرے دو پیشرو جس طرح کرتے تھے میں بھی اسی طرح کروں گا ، پھر انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا ، ان میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، وہ فرمانے لگے کہ یہ مال حلال ہے ، لیکن شرط یہ ہے کہ اسے ٹیکس نہ بنا لیں کہ بعد میں بھی لوگوں سے وصول کرتے رہیں ۔