حدیث نمبر: 8168
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَدْنَى مَقْعَدِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ أَنْ يَقُولَ لَهُ : تَمَنَّ وَيَتَمَنَّى ، فَيَقُولُ لَهُ : هَلْ تَمَنَّيْتَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيَقُولُ لَهُ : فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں سب سے ادنیٰ درجے کے جنتی کا مرتبہ یہ ہوگا کہ اس سے کہا جائے گا کہ تو اپنی خواہشات بیان کر وہ اپنی تمنائیں بیان کرے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تیری ساری تمنائیں پوری ہوگئیں ؟ وہ کہے گا جی ہاں تو حکم ہوگا کہ تو نے جتنی تمنائیں ظاہر کیں وہ بھی تجھے عطاء ہوں گی اور اتنی ہی مزید عطاء ہوں گی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6573، م: 182