حدیث نمبر: 8130
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ ، فَأَمَرَ بِجَهَازِهِ ، فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ، وَأَمَرَ بِالنَّارِ ، فَأُحْرِقَتْ فِي النَّارِ ، قَالَ : فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً " .
مولانا ظفر اقبال

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک نبی نے کسی درخت کے نیچے پڑاؤ کیا انہیں کسی چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے اپنے سامان کو وہاں سے ہٹانے کا حکم دیا اور چیونٹیوں کے پورے بل کو آگ لگا دی اللہ نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ ایک ہی چیونٹی کو کیوں نہ سزا دی ؟ (صرف ایک چیونٹی نے کاٹا تھا سب نے تو نہیں )

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3019، م: 2241