حدیث نمبر: 81
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُولَ إِذَا أَصْبَحْتُ ، وَإِذَا أَمْسَيْتُ ، وَإِذَا أَخَذْتُ مَضْجَعِي مِنَ اللَّيْلِ : " اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكُهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي ، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا ، أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ " . ¤
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صبح و شام اور بستر پر لیٹتے وقت یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا ہے : «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكُهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي ، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا» ”اے اللہ ! اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے ، ظاہر اور پوشیدہ سب کچھ جاننے والے ، ہر چیز کے پالنہار اور مالک ! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہو سکتا ، تو اکیلا ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ، میں اپنی ذات کے شر ، شیطان کے شر اور اس کے شرک سے ، خود اپنی جان پر کسی گناہ کا بوجھ لادنے سے یا کسی مسلمان کو اس میں کھینچ کر مبتلا کرنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ “

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 81
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ليث ضعيف، ومجاهد لم يدرك أبا بكر