حدیث نمبر: 7620
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا عَدْوَى ، وَلَا صَفَرَ ، وَلَا هَامَةَ " ، قَالَ أَعْرَابِيٌّ : فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ ، فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيُجْرِبُهَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَنْ كَانَ أَعْدَى الْأَوَّلَ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہوتا اور کھوپڑی سے کیڑا نکلنے کی کوئی حقیقت نہیں ایک دیہاتی کہنے لگا کہ پھر اونٹوں کا کیا معاملہ ہے جو صحرا میں ہر نوں کی طرح چوکڑیاں بھرتے ہیں اچانک ان میں ایک خارشی اونٹ شامل ہوجاتا ہے اور سب کو خارش زدہ کردیتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اس سے پہلے اونٹ کو خارش کہاں سے لگی ؟

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5717، م: 2220.