(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 128 ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنُجَازَى بِكُلِّ سُوءٍ نَعْمَلُهُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَلَسْتَ تَنْصَبُ ، أَلَسْتَ تَحْزَنُ ، أَلَسْتَ تُصِيبُكَ اللَّأْوَاءُ ؟ فَهَذَا مَا تُجْزَوْنَ بِهِ " .ابوبکر بن ابی زہیر کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ» [4-النساء:123] کہ ”تمہاری خواہشات اور اہل کتاب کی خواہشات کا کوئی اعتبار نہیں، جو برا عمل کرے گا، اس کا بدلہ پائے گا“ ، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہمیں ہر برے عمل کی سزا دی جائے گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ابوبکر ! اللہ آپ پر رحم فرمائے ؟ کیا آپ بیمار نہیں ہوتے ؟ کیا آپ پریشان نہیں ہوتے ؟ کیا آپ غمگین نہیں ہوتے ؟ کیا آپ رنج و تکلیف کا شکار نہیں ہوتے ؟ یہی تو بدلہ ہے ۔“