مسند احمد
مسند المكثرين من الصحابة
مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے روزے کے حوالے سے کوئی حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک دن روزہ رکھو تو نو کا ثواب ملے گا میں نے اس میں اضافے کی درخواست کی تو فرمایا : ” دو دن روزہ رکھو تمہیں آٹھ کا ثواب ملے گا میں نے مزید اضافے کی درخواست کی تو فرمایا : ” تین روزے رکھو تمہیں سات روزوں کا ثواب ملے گا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کمی کرتے رہے حتیٰ کے آخر میں فرمایا : ” روزہ رکھنے کا سب سے افضل طریقہ سیدنا داؤدعلیہ السلام کا ہے اس لئے ایک دن رزہ رکھا کرو اور ایک دن ناغہ کیا کرو۔