مسند احمد
مسند المكثرين من الصحابة
مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : ذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْمَ ، فَقَالَ : " صُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا ، وَلَكَ أَجْرُ التِّسْعَةِ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَصُمْ مِنْ كُلِّ تِسْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا ، وَلَكَ أَجْرُ الثَّمَانِيَةِ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ مِنْ كُلِّ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا ، وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ السَّبْعَةِ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى قَالَ : " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا " .سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے روزے کے حوالے سے کوئی حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک دن روزہ رکھو تو نو کا ثواب ملے گا میں نے اس میں اضافے کی درخواست کی تو فرمایا : ” دو دن روزہ رکھو تمہیں آٹھ کا ثواب ملے گا میں نے مزید اضافے کی درخواست کی تو فرمایا : ” تین روزے رکھو تمہیں سات روزوں کا ثواب ملے گا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کمی کرتے رہے حتیٰ کے آخر میں فرمایا : ” روزہ رکھنے کا سب سے افضل طریقہ سیدنا داؤد علیہ السلام کا ہے اس لئے ایک دن ورزہ رکھا کرو اور ایک دن ناغہ کیا کرو۔