حدیث نمبر: 6930
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيِدَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكْتُبُ مَا أَسْمَعُ مِنْكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قُلْتُ : فِي الرِّضَا وَالسُّخْطِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِي أَنْ أَقُولَ فِي ذَلِكَ إِلَّا حَقًّا " ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ فِي حَدِيثِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَسْمَعُ مِنْكَ أَشْيَاءَ فَأَكْتُبُهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگارہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! میں آپ سے جو باتیں سنتا ہوں انہیں لکھ لیا کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں میں نے پوچھا رضامندی اور ناراضگی دونوں حالتوں میں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں کیونکہ میری زبان سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6930
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره.