حدیث نمبر: 681
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا عِنْدَهُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : بَشِّرْ قَاتِلَ ابْنِ صَفِيَّةَ بِالنَّارِ ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا ، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " ، قال عبد الله : قال أبي : سَمِعْت سُفْيَانَ يَقُولُ : الْحَوَارِيُّ : النَّاصِرُ .
مولانا ظفر اقبال

زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ابن جرموز نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ ابن جرموز اندر آنا چاہتا ہے ؟ فرمایا : اسے اندر آنے دو ، زبیر کا قاتل جہنم میں ہی داخل ہو گا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 681
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وانظر ما قبله