حدیث نمبر: 680
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحَسَنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : ابْنُ جُرْمُوزٍ يَسْتَأْذِنُ ، قَالَ : ائْذَنُوا لَهُ ، لِيَدْخُلْ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ النَّارَ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا ، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " .
مولانا ظفر اقبال

زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ابن جرموز نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ ابن جرموز اندر آنا چاہتا ہے ؟ فرمایا : اسے اندر آنے دو ، زبیر کا قاتل جہنم میں ہی داخل ہو گا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 680
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن