حدیث نمبر: 665
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ كَثِيرٍ النَّوَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ كَانَ قَبْلِي إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ سَبْعَةَ نُقَبَاءَ وُزَرَاءَ نُجَبَاءَ ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ أَرْبَعَةَ عَشَرَ وَزِيرًا نَقِيبًا نَجِيبًا : سَبْعَةً مِنْ قُرَيْشٍ ، وَسَبْعَةً مِنَ الْمُهَاجِرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھ سے پہلے جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے ہیں ان میں سے ہر ایک کو سات نقباء ، وزراء ، نجباء دیئے گئے جب کہ مجھے خصوصیت کے ساتھ چودہ وزراء ، نقباء ، نجباء دیئے گئے ہیں جن میں سے سات کا تعلق صرف قریش سے ہے اور باقی سات کا تعلق دیگر مہاجرین سے ہے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 665
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف كثير النواء وعبدالله بن مليل