حدیث نمبر: 6508
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " إِذَا مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ ، وَكَانُوا هَكَذَا " ، وَشَبَّكَ يُونُسُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، يَصِفُ ذَاكَ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا أَصْنَعُ عِنْدَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " اتَّقِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَخُذْ مَا تَعْرِفُ ، وَدَعْ مَا تُنْكِرُ ، وَعَلَيْكَ بِخَاصَّتِكَ ، وَإِيَّاكَ وَعَوَامَّهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” تمہارا اس وقت کیا بنے گا جب تم بیکار اور کم تر لوگوں میں رہ جاؤ گے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب وعدوں اور امانتوں میں بگاڑ پیدا ہو جائے اور لوگ اس طرح ہو جائیں (راوی نے تشبیک کر کے دکھائی) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس وقت میرے لئے کیا حکم ہے ؟ فرمایا : ” اللہ سے ڈرنا نیکی کے کام اختیار کرنا برائی کے کاموں سے بچنا اور خواص کے ساتھ میل جول رکھنا عوام سے اپنے آپ کو بچانا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 478