حدیث نمبر: 648
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَكَانَ صَاحِبَ مِطْهَرَتِهِ ، فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ ، فَنَادَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، بِشَطِّ الْفُرَاتِ ، قُلْتُ : وَمَاذَا ؟ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ ، قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَغْضَبَكَ أَحَدٌ ، مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ ؟ قَالَ : " بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ قَبْلُ ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ " ، قَالَ : فَقَالَ : " هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، فَمَدَّ يَدَهُ ، فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ ، فَأَعْطَانِيهَا ، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا .
مولانا ظفر اقبال

عبداللہ بن نجی کے والد ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے ، ان کے ذمے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے وضو کی خدمت تھی ، جب وہ صفین کی طرف جاتے ہوئے نینوی کے قریب پہنچے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا : ابوعبداللہ ! فرات کے کنارے پر رک جاؤ ، میں نے پوچھا کہ خیریت ہے ؟ فرمایا : میں ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہو رہی تھی ، میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! کیا کسی نے آپ کو غصہ دلایا ، خیر تو ہے کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں ؟ فرمایا : ایسی کوئی بات نہیں ہے ، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے پاس سے جبرئیل اٹھ کر گئے ہیں ، وہ کہہ رہے تھے کہ حسین کو فرات کے کنارے شہید کر دیا جائے گا ، پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس مٹی کی خوشبو سونگھا سکتا ہوں ؟ میں نے انہیں اثبات میں جواب دیا ، تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور مجھے دے دی ، بس اس وقت سے اپنے آنسؤوں پر مجھے قابو نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 648
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كالذي قبله