حدیث نمبر: 6418
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ , سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعِرَّانَةِ , فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ؟ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ وَمَعَهُ غُلَامٌ مِنْ سَبْيِ هَوَازِنَ ، فَقَالَ لَهُ : " اذْهَبْ فَاعْتَكِفْ " ، فَذَهَبَ ، فَاعْتَكَفَ ، فَبَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي إِذْ سَمِعَ النَّاسَ , يَقُولُونَ : أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيَ هَوَازِنَ ، فَدَعَا الْغُلَامَ فَأَعْتَقَهُ .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جعرانہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں منت مانی تھی کہ مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی منت پوری کر نے کا حکم دیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو گئے ابھی وہ نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ انہوں نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن کے قیدیوں کو آزاد کر دیا چنانچہ انہوں نے اپنے غلام کو بھی آزاد کر دیا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4320، م: 1656 نحوه مختصرا