حدیث نمبر: 6406
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ , يَقُولُ : شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ عَنْ مُحْرِمٍ قَتَلَ ذُبَابًا ، فَقَالَ : يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ ، تَسْأَلُونِي عَنْ مُحْرِمٍ قَتَلَ ذُبَابًا ! وَقَدْ قَتَلْتُمْ ابْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال

ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عراق کے کسی آدمی نے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر محرم کسی مکھی کو ماردے تو کیا حکم ہے ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ” یہ اہل عراق آ کر مجھ سے مکھی مارنے کی بارے میں پوچھ رہے ہیں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو (کسی سے پوچھے بغیر ہی) شہید کر دیا حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں نواسوں کے متعلق فرمایا : ” تھا کہ یہ دونوں میری دنیا کے ریحان ہیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3753