حدیث نمبر: 6316
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ النَّجْرَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : ابْتَاعَ رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ نَخْلًا ، فَلَمْ يُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا ، فَاجْتَمَعَا ، فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِمَ تَسْتَحِلُّ دَرَاهِمَهُ ؟ ! ارْدُدْ إِلَيْهِ دَرَاهِمَهُ ، وَلَا تُسْلِمُنَّ فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " ، فَسَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَا صَلَاحُهُ ؟ قَالَ : يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کے لئے کھجور کے درخت میں بیع سلم کی لیکن اس سال پھل ہی نہیں آیا اس نے اپنے پیسے واپس لینا چاہے تو اس نے انکار کر دیا وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں کے مالک سے پوچھا کہ کیا اس کے درختوں پر پھل نہیں آیا ؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر اس کے پیسے کیوں روک رکھے ہیں ؟ چنانچہ اس نے اس کے پیسے لوٹادئیے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل پکنے تک بیع سلم سے منع فرما دیا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6316
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة النجراني