(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيٌّ بَيْتِي ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ ، فَجِئْتُهُ بِقَعْبٍ يَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرِيبَهُ ، حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَقَدْ بَالَ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَلَا أَتَوَضَّأُ لَكَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، قَالَ : فَوُضِعَ لَهُ إِنَاءٌ ، " فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ مَضْمَضَ ، وَاسْتَنْشَقَ ، وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدَيْهِ فَصَكَّ بِهِمَا وَجْهَهُ ، وَأَلْقَمَ إِبْهَامَهُ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ ، قَالَ : ثُمَّ عَادَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ، فَأَفْرَغَهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ ، ثُمَّ أَرْسَلَهَا تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ، إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ يَدَهُ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مِنْ ظُهُورِهِمَا ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ مِنَ الْمَاءِ ، فَصَكَّ بِهِمَا عَلَى قَدَمَيْهِ ، وَفِيهِمَا النَّعْلُ ، ثُمَّ قَلَبَهَا بِهَا ، ثُمَّ عَلَى الرِّجْلِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَفِي النَّعْلَيْنِ ؟ قَالَ : وَفِي النَّعْلَيْنِ ، قُلْتُ : وَفِي النَّعْلَيْنِ ؟ قَالَ : وَفِي النَّعْلَيْنِ ، قُلْتُ : وَفِي النَّعْلَيْنِ ؟ قَالَ : وَفِي النَّعْلَيْنِ " .سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے گھر تشریف لائے ، انہوں نے وضو کے لئے پانی منگوایا ، ہم ان کے پاس ایک پیالہ لائے جس میں ایک مد یا اس کے قریب پانی آتا تھا اور وہ لا کر ان کے سامنے رکھ دیا ، اس وقت وہ پیشاب سے فارغ ہو چکے تھے ، انہوں نے مجھ سے فرمایا : اے ابن عباس ! کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وضو کر کے نہ دکھاؤں ؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ چنانچہ ان کے وضو کے لئے برتن رکھا گیا ، پہلے انہوں نے دونوں ہاتھ دھوئے ، کلی کی ، ناک میں پانی ڈال کر اسے صاف کیا ، پھر دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر چہرے پر مارا اپنے انگوٹھے کا پانی کان کے سامنے والے حصے پر ڈالا تین مرتبہ اسی طرح کیا ، پھر دائیں ہاتھ سے ایک چلو بھر کر پانی لیا اور اسے پیشانی پر ڈال لیا ، تاکہ وہ چہرے پر بہہ جائے ، پھر دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا ، بائیں ہاتھ کو بھی اسی طرح دھویا ، سر اور کانوں کا مسح کیا ، پھر دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر اپنے قدموں پر ڈالا ، جبکہ انہوں نے جوتی پہن رکھی تھی ، پھر جوتی کو ہلایا اور دوسرے پاؤں کے ساتھ بھی اسی طرح کیا ۔ میں نے عرض کیا کہ جوتی پہنے ہوئے بھی وضو ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں ! ہو سکتا ہے ۔ یہ سوال جواب تین مرتبہ ہوئے ۔