حدیث نمبر: 620
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا ؟ قَالَ : " وَعِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، ابْنَةُ حَمْزَةَ ، قَالَ : " إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي ، هِيَ ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تو میرے لئے حلال نہیں ہے کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے ۔ (دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا امیرحمزہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1446