(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فِي عَمَلِهِ ، فَغَضِبَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَاشْتَدَّ غَضَبُهُ عَلَيْهِ جِدًّا ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قُلْتُ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ ، أَضْرِبُ عُنُقَهُ ؟ فَلَمَّا ذَكَرْتُ الْقَتْلَ صَرَفَ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ أَجْمَعَ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ النَّحْوِ ، فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا أَرْسَلَ إِلَيَّ بَعْدَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَرْزَةَ ، مَا قُلْتَ ؟ قَالَ : وَنَسِيتُ الَّذِي قُلْتُ ، قُلْتُ : ذَكِّرْنِيهِ ، قَالَ : أَمَا تَذْكُرُ مَا قُلْتَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ حِينَ رَأَيْتَنِي غَضِبْتُ عَلَى الرَّجُلِ ، فَقُلْتَ : " أَضْرِبُ عُنُقَهُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ ؟ أَمَا تَذْكُرُ ذَاكَ ؟ أَوَكُنْتَ فَاعِلًا ذَاكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ وَاللَّهِ ، وَالْآنَ إِنْ أَمَرْتَنِي فَعَلْتُ ، قَالَ : وَيْحَكَ ، أَوْ : وَيْلَكَ ، إِنَّ تِلْكَ وَاللَّهِ مَا هِيَ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی کام میں مشغول تھے ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اسی دوران ایک مسلمان پر کسی وجہ سے غصہ آ گیا اور وہ غصہ بہت زیادہ بڑھ گیا ، جب میں نے صورت حال دیکھی تو عرض کیا یا خیفۃ رسول اللہ ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟ جب میں نے قتل کا نام لیا تو انہوں گفتگو کا عنوان اور موضوع ہی بدل دیا ۔ جب ہم لوگ وہاں سے فراغت کے بعد منتشر ہو گئے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک قاصد کے ذریعے مجھے بھیجا اور فرمایا : ابوبرزہ ! تم کیا کہہ رہے تھے ؟ میں نے عرض کیا : واللہ مجھے یاد نہیں ہے ۔ فرمایا : یاد کرو جب تم نے مجھے ایک شخص پر غصہ ہوتے ہوئے دیکھا تھا تو تم نے کہا تھا یا خلیفۃ رسول اللہ ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟ یاد آیا ؟ کیا تم واقعی ایسا کر گزرتے ؟ میں نے قسم کھا کر عرض کیا جی ہاں ! اگر آپ اب بھی مجھے یہ حکم دیں تو میں اسے پورا کر گزروں ، فرمایا : افسوس ! اللہ کی قسم ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی کے لئے نہیں ہے ۔