حدیث نمبر: 6063
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ , كَيْفَ صَلَاةُ الْمُسَافِرِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ فَقَالَ : أَمَّا أَنْتُمْ فَتَتَّبِعُونَ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُكُمْ ، وَأَمَّا أَنْتُمْ لَا تَتَّبِعُونَ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ ، لَمْ أُخْبِرْكُمْ ، قَالَ : قُلْنَا : فَخَيْرُ السُّنَنِ سُنَّةُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا خَرَجَ مِنْ هَذِهِ الْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال

بشر بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اے ابوعبدالرحمن ! مسافر کی نماز کس طرح ہوتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اگر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرو تو میں تمہیں بتادوں، نہ کروں تو نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کیا کہ اے ابوعبدالرحمن ! بہترین طریقہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی تو ہے انہوں نے فرمایا : کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اس شہر سے نکلتے تھے تو واپس آنے تک دو رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6063
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب.