حدیث نمبر: 6058
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " لَا تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا " ، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ ، أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَةَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَتْ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا ، وَإِنْ كَانَتْ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا ، وَإِنْ كَانَتْ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلٍ مَعْلُومٍ ، نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جب تک پھل پک نہ جائے اس کی خریدو فروخت مت کیا کرو یہ ممانعت بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) دونوں کو فرمائی ہے، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے بھی فرمایا : ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کا پھل " اگر وہ کھجور ہو تو " کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر ، انگور ہو تو کشمش کے بدلے ناپ کر ، کھیتی ہو تو معین ناپ کر بیچے، ان تمام چیزوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا : ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6058
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ،قوله «لاتتبايعوا الثمرة حتى يبدو صلاحها» أخرجع مسلم: 1535، وقوله نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المزابنة.... أخرجه البخاري : 2205، ومسلم: 1542.