حدیث نمبر: 6052
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحُجَيْنٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ شَجَرَةٍ لَا تَطْرَحُ وَرَقَهَا " ، قَالَ : فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَدْوِ ، وَوَقَعَ فِي قَلْبِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ النَّخْلَةُ " ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّ , مَا مَنَعَكَ أَنْ تَتَكَلَّمَ ؟ ! فَوَاللَّهِ , لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَ ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي كَذَا وَكَذَا .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ مسلمان کی طرح ہوتا ہے بتاؤ وہ کون سادرخت ہے ؟ لوگوں کے ذہن میں جنگل کے مختلف درختوں کی طرف گئے میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہو سکتا ہے تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا : وہ کھجور کا درخت ہے میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس بات کا تذکر ہ کیا تو انہوں نے فرمایا : اس موقع پر تمہارا بولنا میرے نزدیک فلاں فلاں چیز سے بھی زیادہ پسندیدہ تھا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.