مسند احمد
مسند المكثرين من الصحابة
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 6006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، فَكَانَا جَمِيعًا ، وَيُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ، فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا ، وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ " .مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب دو آدمی خریدو فروخت کر یں تو ان میں سے ہر ایک کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں اور اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیاردے دے اور وہ دونوں اسی پر بیع کر لیں تو بیع لازم ہو گئی اور اگر بیع کے بعد دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے اور ان میں سے کسی نے بیع کو ترک نہیں کیا تب بھی بیع لازم ہو گئی۔