مسند احمد
مسند المكثرين من الصحابة
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَلْقَمَةَ , أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِالسُّوقِ ، وَمَعَهُ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ إِلَى جَنْبِهِ ، فَمُرَّ بِجِنَازَةٍ يَتْبَعُهَا بُكَاءٌ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : لَوْ تَرَكَ أَهْلُ هَذَا الْمَيِّتِ الْبُكَاءَ ، لَكَانَ خَيْرًا لَمَيِّتِهِمْ ، فَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ : تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : نَعَمْ أَقُولُهُ ، قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَمَاتَ مَيِّتٌ مِنْ أَهْلِ مَرْوَانَ ، فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ مَرْوَانُ : قُمْ يَا عَبْدَ الْمَلِكِ فَانْهَهُنَّ أَنْ يَبْكِينَ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : دَعْهُنَّ ، فَإِنَّهُ مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُنَّ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ ، وَالْفُؤَادَ مُصَابٌ ، وَإِنَّ الْعَهْدَ حَدِيثٌ " ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : يَأْثُرُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ .محمد بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بازار میں بیٹھے ہوئے تھے ، کہ ان کی ایک جانب سلمہ بن ازرق بھی بیٹھے تھے ، اتنے میں وہاں سے ایک جنازہ گزرا جس کے پیچھے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اگر یہ لوگ رونا دھوناچھوڑ دیں تو ان ہی کے مردے کے حق میں بہتر ہو، سلمہ بن ازرق کہنے لگے : ابوعبدالرحمن ! یہ آپ کہہ رہے ہیں ؟ فرمایا : ہاں ! یہ میں ہی کہہ رہا ہوں ، کیونکہ ایک مرتبہ مروان کے اہل خانہ میں سے کوئی مر گیا، عورتیں اکٹھی ہو کر اس پر رونے لگیں، مروان کہنے لگا کہ عبدالملک ! جاؤ ، ان عورتوں کو رونے سے منع کرو، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے ، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے خود سنا کہ رہنے دو ، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ میں سے بھی کسی کے انتقال پر خواتین نے جمع ہو کر رونا شروع کر دیا تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر انہیں ڈانٹنا اور منع کرنا شروع کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے ابن خطاب ! رہنے دو ، کیونکہ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور زخم ابھی ہرا ہے۔“ انہوں نے پوچھا : کیا یہ روایت آپ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ! سلمہ نے پوچھا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ! اس پر وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔