مسند احمد
مسند المكثرين من الصحابة
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 5885
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمّد ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ ، وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ ، وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ ، فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ الرَّمَاءَ " ، وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَا ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَبِيعُ الْفَرَسَ بِالْأَفْرَاسِ ، وَالنَّجِيبَةَ بِالْإِبِلِ ؟ قَالَ : " لَا بَأْسَ ، إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ " .مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ایک دینار کو دو دیناروں کے بدلے ، ایک درہم کو دو کے بدلے اور ایک صاع کو دو صاع کے بدلے مت بیچو ، کیونکہ مجھے تمہارے سود میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے“ ، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ بتائیے ، اگر کوئی آدمی ایک گھوڑا کئی گھوڑوں کے بدلے یا ایک شریف الاصل اونٹ دوسرے اونٹ کے بدلے بیچے تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کوئی حرج نہیں ، بشرطیکہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔“