مسند احمد
مسند المكثرين من الصحابة
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 5862
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ " ، وَنَهَى عَنِ النَّجْشِ ، وَنَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ ، وَنَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُزَابَنَةُ : بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا ، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا .مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے“ ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع میں دھوکے سے، حاملہ جانور کے حمل کی بیع سے اور بیع مزابنہ سے منع فرمایا ، بیع مزابنہ کا مطلب یہ ہے کہ پھلوں کی بیع کھجوروں کے بدلے کی جائے ماپ کر ، یا ا نگور کی بیع کشمش کے بدلے ناپ کر کے کی جائے۔