حدیث نمبر: 571
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ : أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمٌ وَفَاطِمَةُ ، وَذَلِكَ مِنَ السَّحَرِ ، حَتَّى قَامَ عَلَى الْبَابِ ، فَقَالَ : " أَلَا تُصَلُّونَ ؟ " ، فَقُلْتُ مُجِيبًا لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا نُفُوسُنَا بِيَدِ اللَّهِ ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنا ، قَالَ : فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَى الْكَلَامِ ، فَسَمِعْتُهُ حِينَ وَلَّى يَقُولُ وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ : " وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54 " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے ، میں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا دونوں سو رہے تھے ، صبح کا وقت تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ تم لوگ نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ میں نے جواب دیتے ہوئے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں ہیں جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر مجھے کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلے گئے ، میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ انسان بہت زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 571
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح،خ: 7347، م: 775