حدیث نمبر: 5525
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، قَالَ : فَذَكَرَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَحِيضَ غَيْرَ هَذِهِ الْحَيْضَةِ ، ثُمَّ تَطْهُرَ ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا فَلْيُمْسِكْهَا " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو اس کے ”ایام“” کی حالت میں طلاق دے دی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی یہ بات بتادی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے مطلع کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے چاہئے کہ اسے اپنے پاس ہی رکھے یہاں تک کہ ان ایام کے علاوہ اسے ایام کا دوسرا دور آ جائے، اور وہ اس سے بھی پاک ہو جائے، پھر اگر اسے طلاق دینے کی رائے ہو تو حکم الہٰی کے مطابق اسے طلاق دے دے اور اگر اپنے پاس رکھنے کی رائے ہو تو اپنے پاس رہنے دے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1471