مسند احمد
مسند المكثرين من الصحابة
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 5452
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ قُرَادٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ ، أَوْ يَدْخُلُ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ ، لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَكْفَى ، أَتُرَوْنَهَا لِلْمُنَقَّيْنَ ؟ ! لَا ، وَلَكِنَّهَا لِلْمُتَلَوِّثِينَ ، الْخَطَّاءُونَ " ، قَالَ زِيَادٌ : أَمَا إِنَّهَا لَحْنٌ ، وَلَكِنْ هَكَذَا حَدَّثَنَا الَّذِي حَدَّثَنَا .مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مجھے دو باتوں میں سے کسی ایک کا اختیار دیا گیا شفاعت کا یا نصف امت کے جنت میں داخل ہونے کا ، تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا ، کیونکہ یہ زیادہ عام اور کفایت کرنے والی چیز ہے کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ متقیوں کے لئے ہو گی ؟ نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کے لئے ہو گی جو گناہوں میں ملوث ہوں گے ۔“