مسند احمد
مسند المكثرين من الصحابة
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا شَجَرَةٌ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا ، وَهِيَ مِثْلُ الْمُؤْمِنِ ؟ " ، أَوْ قَالَ : " الْمُسْلِمِ ؟ " ، قَالَ : فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ النَّخْلَةُ " ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ ، فَقَالَ : لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا ، كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا .سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ مسلمان کی طرح ہوتا ہے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے ؟ لوگوں کے ذہن میں جنگل کے مختلف درختوں کی طرف گئے ، میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہو سکتا ہے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے ، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا : اس موقع پر تمہارا بولنا میرے نزدیک فلاں فلاں چیز سے بھی زیادہ پسندیدہ تھا۔“