مسند احمد
مسند المكثرين من الصحابة
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتْ النِّسَاءَ ، فَقَالَ : " تُرْخِي شِبْرًا " ، قَالَتْ : إِذَنْ تَنْكَشِفَ ، قَالَ : " فَذِرَاعًا لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ " .سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔ “ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے (سلیمان رحمہ اللہ کے بقول) عرض کیا کہ ہمارے ساتھ کیا ہو گا ؟ (کیونکہ عورتوں کے کپڑے بڑے ہوتے ہیں اور عام طور پر شلوار پائنچوں میں آ رہی ہوتی ہے) فرمایا : ایک بالشت کپڑا اونچا کر لیا کرو، انہوں نے پھر عرض کیا کہ اس طرح تو ہمارے پاؤں نظر آنے لگیں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک بالشت پر اضافہ نہ کرنا (اتنی مقدارمعاف ہے)۔ “