حدیث نمبر: 502
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَبَاحٌ ، قَالَ : زَوَّجَنِي مَوْلَايَ جَارِيَةً رُومِيَّةً ، فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا ، فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي ، فَسَمَّيْتُهُ : عَبْدَ اللَّهِ ، ثُمَّ وَقَعْتُ عَلَيْهَا ، فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي ، فَسَمَّيْتُهُ : عُبَيْدَ اللَّهِ ، ثُمَّ طَبِنَ لِي غُلَامٌ رُومِيٌّ ، قَالَ : حَسِبْتُهُ قَالَ : لِأَهْلِي رُومِيٌّ ، يُقَالُ لَهُ : يُوحَنَّسُ ، فَرَاطَنَهَا بِلِسَانِهِ يَعْنِي بِالرُّومِيَّةِ ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا أَحْمَرَ ، كَأَنَّهُ وَزَغَةٌ مِنَ الْوَزَغَاتِ ، فَقُلْتُ لَهَا : مَا هَذَا ؟ فَقَالَتْ : هَذَا مِنْ يُوحَنَّسَ ، قَالَ : فَارْتَفَعْنَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، وَأَقَرَّا جَمِيعًا ، فَقَالَ عُثْمَانُ : إِنْ شِئْتُمْ قَضَيْتُ بَيْنَكُمْ بِقَضِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى " أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ " ، قَالَ : حَسِبْتُهُ قَالَ : وَجَلَدَهُمَا .
مولانا ظفر اقبال

رباح کہتے ہیں کہ میرے آقا نے اپنی ایک رومی باندی سے میری شادی کر دی ، میں اس کے پاس گیا تو اس سے مجھ جیسا ہی ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہوگیا، میں نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا ، دوبارہ ایسا موقع آیا تو پھر ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہو گیا ، میں نے اس کا نام عبیداللہ رکھ دیا ۔ اتفاق کی بات ہے کہ میری بیوی پر میرے آقا کا ایک رومی غلام عاشق ہو گیا جس کا نام یوحنس تھا ، اس نے اسے اپنی زبان میں رام کر لیا ، چنانچہ اس مرتبہ جو بچہ پیدا ہوا وہ رومیوں کے رنگ کے مشابہ تھا، میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ یہ یوحنس کا بچہ ہے ، ہم نے یہ معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا ، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہارے درمیان وہی فیصلہ کروں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ یہ ہے کہ بچہ بستر والے کا ہو گا اور غالباً انہوں نے ان دونوں کو کوڑے بھی مارے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة رباح، وللمرفوع شاهد من حديث أبى هريرة متفق عليه