(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ حُمْرَانَ ، قَالَ : كَانَ عُثْمَانُ يَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً مِنْ مُنْذُ أَسْلَمَ ، فَوَضَعْتُ وَضُوءًا لَهُ ذَاتَ يَوْمٍ لِلصَّلَاةِ ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ ، قَالَ : إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : بَدَا لِي أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمُوهُ ، فَقَالَ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنْ كَانَ خَيْرًا فَنَأْخُذُ بِهِ ، أَوْ شَرًّا فَنَتَّقِيهِ ، قَالَ : فَقَالَ : فَإِنِّي مُحَدِّثُكُمْ بِهِ : تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْوُضُوءَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ هَذَا الْوُضُوءَ ، فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا ، كَفَّرَتْ عَنْهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى ، مَا لَمْ يُصِبْ مَقْتَلَةً " يَعْنِي : كَبِيرَةً .حمران کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جب سے اسلام قبول کیا تھا ، ان کا معمول تھا کہ وہ روزانہ نہایا کرتے تھے ، ایک دن نماز کے لئے میں نے وضو کا پانی رکھا ، جب وہ وضو کر چکے تو فرمانے لگے کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کرنا چاہتا تھا ، پھر میں نے سوچا کہ نہ بیان کروں ، یہ سن کر حکم بن ابی العاص نے کہا کہ امیر المؤمنین ! بیان کر دیں ، اگر خیر کی بات ہو گی تو ہم بھی اس پر عمل کر لیں گے اور اگر شر کی نشاندہی ہو گی ، تو ہم بھی اس سے بچ جائیں گے ، فرمایا : میں تم سے یہ حدیث بیان کرنے لگا تھا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح وضو کیا اور فرمایا : ”جو شخص اس طرح وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے ، پھر نماز کے لئے کھڑا ہو اور رکوع و سجود کو اچھی طرح مکمل کرے تو یہ وضو اگلی نماز تک اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا ، بشرطیکہ کسی گناہ کبیرہ کا ارتکا ب نہ کرے ۔“