حدیث نمبر: 4826
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلُ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَسَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ ، حَتَّى صَلَّى الْمُصَلِّي ، وَاسْتَيْقَظَ الْمُسْتَيْقِظُ ، وَنَامَ النَّائِمُونَ ، وَتَهَجَّدَ الْمُتَهَجِّدُونَ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي أَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَذَا الْوَقْتَ " ، أَوْ هَذِهِ الصَّلَاةَ ، أَوْ نَحْوَ ذَا .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں اتنی تاخیر کر دی کہ نماز پڑھنے والوں نے نماز پڑھ لی، جاگنے والے جاگتے رہے، سونے والے سو گئے اور تہجد پڑھنے والوں نے تہجد پڑھ لی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا : ”اگر مجھے اپنی امت پر تکلیف کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں حکم دیتا کہ عشاء کی نماز اسی وقت پڑھا کریں“ یا اس کے قریب کوئی جملہ فرمایا ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4826
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى إسرائيل، وأصل الحديث الصحيح، وهو قوله: «لو لا أن أشق على أمتي ......» أخرجه مسلم : 639