(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ لَهُ : ابْنَ أَخِي ، أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : لَا ، وَلَكِنْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ ، وَالْيَقِينِ مَا يَخْلُصُ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا ، قَالَ : فَتَشَهَّدَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ ، فَكُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ، وَآمَنَ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ هَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ كَمَا قُلْتُ ، وَنِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ ، حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .عبیداللہ بن عدی بن الخیار کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا بھتیجے ! کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے ؟ میں نے عرض کیا، نہیں ! البتہ ان کے حوالے سے خالص معلومات اور ایسا یقین ضرور میرے پاس ہیں جو کنواری دوشیزہ کو اپنے پردے میں ہوتا ہے ، اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حمد و ثناء اور اقرار شہادتین کے بعد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ، اللہ و رسول کی دعوت پر لبیک کہنے والوں میں بھی تھا ، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر ایمان لانے والوں میں ، میں بھی تھا ، پھر میں نے حبشہ کی طرف دونوں مرتبہ ہجرت کی ، مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف بھی حاصل ہوا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پر بیعت بھی کی ہے ، اللہ کی قسم ! میں نے کبھی ان کی نافرمانی کی اور نہ ہی دھوکہ دیا ، یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا ۔