حدیث نمبر: 4775
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا هَامَةَ " ، قَالَ : فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الْبَعِيرَ يَكُونُ بِهِ الْجَرَبُ ، فَتَجْرَبُ الْإِبِلُ ؟ قَالَ : " ذَلِكَ الْقَدَرُ ، فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بیماری متعدی ہونے کا نظریہ صحیح نہیں ۔ بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، الو کے منحوس ہونے کی کوئی حقیقت نہیں ہے“، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! سو اونٹوں میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو کر ان سب کو خارش زدہ کر دیتا ہے ( اور آپ کہتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی ؟ ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہی تو تقدیر ہے، یہ بتاؤ اس پہلے اونٹ کو خارش میں کس نے مبتلا کیا ؟ “

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4775
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جناب