مسند احمد
مسند المكثرين من الصحابة
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّرَ أُسَامَةَ عَلَى قَوْمٍ ، فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمَارَتِهِ ، فَقَالَ : " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ ، فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ ، وَايْمُ اللَّهِ ، إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ ، وَإِنَّ ابْنَهُ هَذَا لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ " .سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو کچھ لوگوں کا امیر مقرر کیا لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کر رہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کر چکے ہو حالانکہ اللہ کی قسم ! وہ امارت کا حق دار تھا اور لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا اور اب اس کا یہ بیٹا اس کے بعد مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے ۔ “