حدیث نمبر: 468
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ فِي الدَّارِ وَهُوَ مَحْصُورٌ ، قَالَ : وَكُنَّا نَدْخُلُ مَدْخَلًا إِذَا دَخَلْنَاهُ سَمِعْنَا كَلَامَ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ ، قَالَ : فَدَخَلَ عُثْمَانُ يَوْمًا لِحَاجَةٍ ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا مُنْتَقِعًا لَوْنُهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُمْ لَيَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا ، قَالَ : قُلْنَا : يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : فَقَالَ : وَبِمَ يَقْتُلُونِي ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّهُ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ : رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ " ، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ ، وَلَا تَمَنَّيْتُ بَدَلًا بِدِينِي مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا ، فَبِمَ يَقْتُلُونِي ؟ .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جن دنوں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں محصور تھے ، میں ان کے ساتھ ہی تھا تھوڑی دیر کے لئے ہم کسی کمرے میں داخل ہوتے تو چوکی پر بیٹھنے والوں کی بات بھی سنائی دیتی تھی ، اسی طرح ایک مرتبہ وہ اس کمرے میں داخل ہوئے ، تھوڑی دیر بعد باہر تشریف لائے تو ان کا رنگ اڑا ہوا تھا اور وہ فرمانے لگے کہ ان لوگوں نے مجھے ابھی ابھی قتل کی دھمکی دی ہے ، ہم نے عرض کیا کہ امیر المؤمنین ! اللہ ان کی طرف سے آپ کی کفایت و حفاظت فرمائے گا ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ بھلا کس جرم میں یہ لوگ مجھے قتل کریں گے ؟ جب کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین میں سے کسی ایک صورت کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں ہے ، یا تو وہ آدمی جو اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جائے ، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے ، یا قاتل ہو اور مقتول کے عوض اسے قتل کر دیا جائے ، اللہ کی قسم ! مجھے تو اللہ نے جب سے ہدایت دی ہے ، میں نے اس دین کے بدلے کسی دوسرے دین کو پسند نہیں کیا ، میں نے اسلام تو بڑی دور کی بات ہے ، زمانہ جاہلیت میں بھی بدکاری نہیں کی اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے ، پھر یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 468
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح