مسند احمد
مسند المكثرين من الصحابة
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 4635
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال : " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا أَوْ قَالَ : شَقِيصًا لَهُ ، أَوْ قَالَ : شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ ، فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا بَلَغَ ثَمَنَهُ بِقِيمَةِ الْعَدْلِ ، فَهُوَ عَتِيقٌ ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ " قَالَ أَيُّوبُ : كَانَ نَافِعٌ رُبَّمَا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهُ ، فَلَا أَدْرِي أَهُوَ فِي الْحَدِيثِ ، أَوْ قَالَهُ نَافِعٌ مِنْ قِبَلِهِ ؟ يَعْنِي قَوْلَهُ : " فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ " .مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کر دیتا ہے تو وہ غلام کی قیمت کے اعتبار سے ہو گا ، چنانچہ اب اس غلام کی قیمت لگائی جائے گی ، باقی شرکاء کو ان کے حصے کی قیمت دے دی جائے گی اور غلام آزاد ہو جائے گا ورنہ جتنا اس نے آزاد کیا ہے اتنا ہی رہے گا ۔