حدیث نمبر: 4624
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَذْنَبْتُ ذَنْبًا كَبِيرًا ، فَهَلْ لِي تَوْبَةٌ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَكَ وَالِدَانِ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَلَكَ خَالَةٌ " ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَبِرَّهَا إِذَنْ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھ سے ایک بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش اور کوئی صورت ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ”کیا تمہارے والدین ہیں ؟“ اس نے کہا : نہیں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالہ کے متعلق پوچھا ، اس نے کہا : وہ ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اور ان سے حسن سلوک کرو ۔ “

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4624
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح