حدیث نمبر: 454
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الْقَاصُّ ، عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ ، قَالَ : كَانَ عُثْمَانُ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى ، حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ ، فَقِيلَ لَهُ : تَذْكُرُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَلَا تَبْكِي ، وَتَبْكِي مِنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْقَبْرُ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ ، فَإِنْ يَنْجُ مِنْهُ ، فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ ، فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ " ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَطُّ ، إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال

ہانی جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کسی قبر پر رکتے تو اتنا روتے کہ داڑھی تر ہو جاتی ، کسی نے ان سے پوچھا کہ جب آپ جنت اور جہنم کا تذکرہ کرتے ہیں ، تب تو نہیں روتے اور اس سے رو پڑتے ہیں ؟ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے ، اگر وہاں نجات مل گئی تو بعد کے سارے مراحل آسان ہو جائیں گے اور اگر وہاں نجات نہ ملی تو بعد کے سارے مراحل دشوار ہو جائیں گے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میں نے جتنے بھی مناظر دیکھے ہیں ، قبر کا منظر ان سب سے ہولناک ہے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 454
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح