حدیث نمبر: 452
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُغِيرَةَ بْنَ مُسْلِمٍ أَبَا سَلَمَةَ يَذْكُرُ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُثْمَانَ أَشْرَفَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُوَ مَحْصُورٌ ، فَقَالَ : عَلَامَ تَقْتُلُونِي ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ ، فَعَلَيْهِ الرَّجْمُ ، أَوْ قَتَلَ عَمْدًا ، فَعَلَيْهِ الْقَوَدُ ، أَوْ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ ، فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ " ، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ ، وَلَا قَتَلْتُ أَحَدًا فَأُقِيدَ نَفْسِي مِنْهُ ، وَلَا ارْتَدَدْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ ، إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جن دنوں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں محصور تھے ، انہوں نے لوگوں کو جھانک کر دیکھا اور فرمانے لگے بھلا کس جرم میں تم لوگ مجھے قتل کرو گے ؟ جب کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین میں سے کسی ایک صورت کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں ہے ، یا تو وہ آدمی جو اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جائے ، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے ، یا قاتل ہو اور مقتول کے عوض اسے قتل کر دیا جائے ، اللہ کی قسم ! مجھے تو اللہ نے جب سے ہدایت دی ہے ، میں کبھی مرتد نہیں ہوا ، میں نے اسلام تو بڑی دور کی بات ہے ، زمانہ جاہلیت میں بھی بدکاری نہیں کی اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے ، جس کا مجھ سے قصاص لیا جائے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 452
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، مطر الورق - وإن تكلموا فى حفظه - حسن الحديث فى المتابعات والشواهد